امریکی عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کی مہم کے تحت امریکی بحریہ نے ایران آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔
پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیٹ نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ایک خوشحال مستقبل کا انتخاب کرنے کا موقع موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے اس سنہری راستے کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ایران نے غلط راستے کا انتخاب کیا تو انہیں محاصرے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے انفراسٹرکچر، بجلی اور توانائی کے مراکز پر بمباری کی جائے گی۔
ہیگسیٹ نے مزید کہا کہ یہ مقابلہ برابر کا نہیں ہے اور امریکہ کو ایرانی عسکری اثاثوں کی نقل و حرکت اور ان کے ٹھکانوں کا بخوبی علم ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے واضح کیا کہ امریکی افواج کسی بھی لمحے بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ ایرانی پرچم بردار یا ایران کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا پیچھا کرے گی۔
جنرل ڈین کین کے مطابق محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکا جائے گا اور انہیں تنبیہ کی جائے گی کہ حکم عدولی کی صورت میں طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ کارروائی ایران کی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں میں کی جائے گی۔ جنرل کین نے بتایا کہ اب تک 13 جہازوں نے محاصرہ توڑنے کے بجائے واپس جانے کو ترجیح دی ہے، تاہم تاحال کسی جہاز پر چڑھ کر تلاشی نہیں لی گئی۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے پر امید کا اظہار کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر ایران نے مزاحمت جاری رکھی تو ان پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔
