-Advertisement-

ایران جنگ: برطانوی مسلح افواج کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی

تازہ ترین

ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد امریکی ایوانِ نمائندگان میں ناکام

واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنے کی...
-Advertisement-

لندن میں ایران جنگ کے اثرات اور برطانوی عسکری قوت میں نمایاں کمی نے وزیراعظم کیئر سٹارمر کی حکومت کے لیے شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ فوجی ماہرین کی جانب سے برسوں سے جاری انتباہ کے باوجود، برطانیہ کی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ میں قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد، برطانیہ کو مشرقی بحیرہ روم میں ایک جنگی جہاز بھیجنے میں تین ہفتے کا طویل وقت لگا، جبکہ فرانس، یونان اور اٹلی نے چند دنوں کے اندر ہی اپنے بحری جہاز روانہ کر دیے تھے۔

برطانیہ کی کمزور ہوتی عسکری طاقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نظروں سے بھی اوجھل نہیں رہی، جنہوں نے برطانوی طیارہ بردار بحری جہازوں کو کھلونوں سے تشبیہ دی ہے، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برطانوی رائل نیوی کی موجودہ حیثیت پر طنزیہ تبصرے کیے ہیں۔ جواب میں وزیراعظم کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے بڑی اور مستقل اضافے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

رائل نیوی کی موجودہ حالت یہ ہے کہ اس کے پاس صرف 38 ہزار اہلکار اور دو طیارہ بردار جہاز موجود ہیں، جبکہ 1991 میں یہ تعداد 62 ہزار اہلکار اور تین طیارہ بردار جہازوں پر مشتمل تھی۔ اسی طرح تباہ کن اور فریگیٹ جہازوں کی تعداد بھی 50 سے کم ہو کر 13 رہ گئی ہے۔ رائل نیوی پر دباؤ کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بحرین میں ایچ ایم ایس لنکاسٹر کی ڈی کمیشننگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کا کوئی مستقل بحری جہاز موجود نہیں ہے۔

فضائیہ کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ رائل ایئر فورس کے پاس اس وقت 150 سے زائد لڑاکا طیارے اور 31 ہزار اہلکار ہیں، جبکہ 1991 میں یہ تعداد 700 طیاروں اور 88 ہزار اہلکاروں پر محیط تھی۔ ایران جنگ کے تناظر میں برطانیہ نے محدود تعداد میں ایف 35 اور ٹائیفون طیارے خطے میں تعینات کیے ہیں، تاہم وہ اس تنازعے میں براہ راست فریق نہیں ہے۔

زمینی فوج کی نفری بھی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہے۔ برطانوی فوج کے کل وقتی اہلکاروں کی تعداد اب 74 ہزار رہ گئی ہے جو 1991 میں 1 لاکھ 48 ہزار تھی۔ جنگی ٹینکوں کی تعداد جو سرد جنگ کے اختتام پر 1200 تھی، اب صرف 150 فعال ٹینکوں تک محدود ہو چکی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں جی ڈی پی کا 3.8 فیصد دفاع پر خرچ ہوتا تھا جو 2024 میں کم ہو کر 2.3 فیصد رہ گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -