نامور فلم ساز سٹیون سپیلبرگ نے لاس ویگاس میں منعقدہ سنیما کون کنونشن کے دوران اپنی نئی فلم ڈسکلوزر ڈے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم محض تخیل نہیں بلکہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ انیس سو ستتر میں اپنی فلم کلوز انکاؤنٹرز آف دی تھرڈ کائنڈ کو محض قیاس آرائی قرار دینے والے سپیلبرگ کا کہنا ہے کہ دو ہزار سترہ میں امریکی فوجی پائلٹس کی جانب سے غیر شناخت شدہ پرواز کرنے والی اشیاء کی رپورٹس کے بعد انہوں نے دوبارہ خلائی مخلوق کے موضوع پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔
سپیلبرگ نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ یہ فلم کئی سوالات کے جوابات دے گی اور ساتھ ہی ناظرین کے ذہن میں نئے سوالات بھی پیدا کرے گی۔ انہوں نے فلم کی کہانی پر زیادہ تفصیلات ظاہر کیے بغیر اسے ایک پرجوش سفر قرار دیا۔ فلم کی دکھائی گئی جھلکیوں میں ایک خلائی مخلوق کو انسانی بچے کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ یونیورسل پکچرز کی جانب سے پیش کی جانے والی اس فلم کی کاسٹ میں ایملی بلنٹ، جوش او کونر، کولمین ڈومنگو اور کولن فرتھ شامل ہیں۔ فلم رواں سال جون میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
اسی تقریب میں ہدایت کار کرسٹوفر نولن نے بھی اپنی آئندہ آنے والی فلم دی اوڈیسی کا تعارف کرایا۔ ہومر کی قدیم یونانی داستان پر مبنی یہ فلم جولائی میں ریلیز کی جائے گی۔ نولن نے کہا کہ تین ہزار سال پرانی یہ کہانی نسل در نسل لوگوں کو متوجہ کرتی رہی ہے۔ اوپن ہائیمر کے ہدایت کار نے تسلیم کیا کہ اس فلم کی عکس بندی ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن یہ کہانی کا تقاضا تھا۔
فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے میٹ ڈیمن کے بارے میں نولن نے بتایا کہ اداکار نے شدید موسمی حالات کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میٹ ڈیمن نے طوفانی بارشوں، تیز ہواؤں، تپتی دھوپ اور پہاڑی و غاروں کے مشکل مقامات پر شوٹنگ مکمل کی۔ نولن کے مطابق کہانی کی نوعیت ہی ایسی ہے جس کے لیے ان سخت حالات کا سامنا کرنا ضروری تھا۔
