آسٹریلیا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے معاملے پر مدد کے لیے کوئی نئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آسٹریلیا پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے رویے سے خوش نہیں ہیں کیونکہ جب انہوں نے مدد مانگی تو آسٹریلیا وہاں موجود نہیں تھا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر آسٹریلوی عدم تعاون کا ذکر کیا۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیر اعظم نے ان الزامات کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے خود یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کے معاملے کو وہ خود دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس معاملے پر فی الحال کوئی نئی درخواست نہیں کی گئی ہے۔
آسٹریلیا کا موقف ہے کہ اسے صرف آبنائے ہرمز کے راستے ایندھن کی ترسیل بحال ہونے میں دلچسپی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کی صورتحال پر فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
