-Advertisement-

مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس: کیا خریداری کے لیے ان پر انحصار کرنا محفوظ ہے؟

تازہ ترین

میانمار: سابق رہنما آنگ سان سوچی کی قید کی سزا میں کمی

میانمار کی فوجی حکومت نے قید میں موجود سابق رہنما آنگ سان سوچی کی سزا میں کمی کا اعلان...
-Advertisement-

مصنوعی ذہانت کے خود کار ایجنٹس اب ای میلز کی ترتیب سے لے کر خریداری تک کے معاملات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اہم فیصلے ٹیکنالوجی کے سپرد کرنے سے صارفین کو مالی نقصان اور ڈیٹا کی سکیورٹی جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے اے آئی ماہر میٹ کروپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں حفاظتی اقدامات کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ نظام کار خریدنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، لیکن وہ کسی کو بھی اپنا کریڈٹ کارڈ اس کے حوالے کرنے کا مشورہ نہیں دیں گے۔

ان خطرات کے باوجود امریکی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے فروخت بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ امریکن ایکسپریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کارڈ ہولڈرز کو اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ہونے والی غلطیوں سے تحفظ فراہم کرے گی اور خریداری کے دوران ایجنٹ کی شناخت کی تصدیق کی جائے گی۔

ایمیزون کا اے آئی اسسٹنٹ روفس قیمتوں پر نظر رکھنے اور مقررہ حد پر خریداری کرنے کی سہولت دے رہا ہے، جبکہ وال مارٹ نے سپارکی نامی کنورسیشنل ایجنٹ متعارف کرایا ہے جو صارفین کو مصنوعات تلاش کرنے اور آرڈر دینے میں مدد دیتا ہے۔ سٹیٹسٹا کے اعداد و شمار کے مطابق اٹھارہ سے انتالیس سال کی عمر کے تقریباً پچیس فیصد امریکی اے آئی کو خریداری کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سان فرانسسکو کے ایک اسٹارٹ اپ بانی سیبسٹین ہینمین نے جب ایک اے آئی بوٹ کو عالمی اقتصادی فورم میں تقریر کا موقع حاصل کرنے کا کہا، تو بوٹ نے تیس ہزار ڈالر کی بھاری فیس پر یہ موقع حاصل کر لیا، جو کہ صارف کے بجٹ سے باہر تھا۔

ٹاسک لیٹ کے بانی اینڈریو لی کا کہنا ہے کہ خریداری کے لیے فی الحال ان سسٹمز پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ ایجنٹس بنیادی طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہیکرز اے آئی ایجنٹس کو دھوکہ دے کر صارفین کا کریڈٹ کارڈ ڈیٹا چرانے کے لیے فشنگ ویب سائٹس کی طرف راغب کر سکتے ہیں، جس سے مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -