-Advertisement-

بھارت: خواتین کے کوٹے سے متعلق پارلیمانی توسیع کا بل منظور نہ ہو سکا

تازہ ترین

ایران نے افزودہ یورینیم ہٹانے سمیت تمام شرائط مان لیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تمام شرائط...
-Advertisement-

نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اس وقت ایک غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں خواتین کے لیے نشستوں کے کوٹے سے متعلق بل مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مجوزہ قانون کے تحت آئندہ پارلیمانی انتخابات تک ایوان زیریں میں قانون سازوں کی تعداد میں تقریباً 55 فیصد اضافہ کر کے اسے 850 تک پہنچایا جانا تھا۔

جمعہ کے روز ہونے والی ووٹنگ کے دوران 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ آئینی ترمیم کے لیے ایوان کی دو تہائی اکثریت درکار تھی جو حکومت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس بل میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت نے خواتین کے نام کا سہارا لے کر آئین شکنی کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حلقہ بندیوں کی آڑ میں حکومت انتخابی عمل کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی تھی۔

دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کے کوٹے کے لیے اپنی مہم جاری رکھے گی۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین اس عمل کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔

حکومتی موقف تھا کہ حلقہ بندیوں میں تبدیلی 1971 کی مردم شماری کے بعد آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کے لیے ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں اس وقت خواتین کے لیے کوئی نشست مخصوص نہیں ہے اور ایوان زیریں میں ان کی نمائندگی صرف 14 فیصد جبکہ ایوان بالا میں 17 فیصد ہے۔ ریاستی اسمبلیوں میں بھی خواتین قانون سازوں کی شرح صرف 10 فیصد ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -