نیوزی لینڈ نے چین کی جانب سے اپنے فوجی پیٹرول طیارے کی پرواز پر اٹھائے گئے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ نیوزی لینڈ کے پی-8 اے طیارے نے بحیرہ زرد اور مشرقی بحیرہ چین کی فضائی حدود اور پانیوں میں مسلسل قریبی نگرانی اور ہراساں کرنے جیسی کارروائیاں کی ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون کے مطابق اس اقدام سے چین کے سیکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچا، غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کے خطرات میں اضافہ ہوا اور شہری ہوابازی کے نظام میں شدید خلل پیدا ہوا۔
اس دعوے کے جواب میں نیوزی لینڈ کی ڈیفنس فورس نے واضح کیا ہے کہ ان کا طیارہ شمالی ایشیا کے سمندری حدود میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کر رہا تھا۔
نیوزی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ عملے نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور بین الاقوامی قوانین و شہری ہوابازی کے ضوابط کی مکمل پاسداری کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری تعیناتی ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز گزشتہ برس فروری میں ہوا تھا، جب چینی بحریہ کے جہازوں نے نیوزی لینڈ کے قریب تسمان سمندر میں لائیو فائر مشقیں کی تھیں۔ تاہم رواں برس جون میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے نیوزی لینڈ میں ملاقات کی تھی جس میں باہمی تجارت کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
