امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے یو ایف او یعنی نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق خفیہ دستاویزات کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے جس میں کئی انتہائی دلچسپ ریکارڈز ملے ہیں۔ میری لینڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات کی پہلی کھیپ جلد ہی عوام کے لیے جاری کر دی جائے گی تاکہ لوگ خود دیکھ سکیں کہ یہ مظاہر کس حد تک درست ہیں۔
صدر ٹرمپ نے فروری میں امریکی اداروں کو یہ ہدایت جاری کی تھی کہ وہ یو ایف او، نامعلوم فضائی مظاہر اور ممکنہ خلائی مخلوق کے بارے میں سرکاری فائلیں منظر عام پر لائیں۔ یہ اقدام سابق صدر براک اوباما کی جانب سے ایک پوڈ کاسٹ میں خلائی مخلوق کے وجود کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تنازع کے بعد اٹھایا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما پر کلاسیفائیڈ معلومات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔
دوسری جانب براک اوباما نے بعد ازاں وضاحت کی تھی کہ اپنے دور صدارت میں انہیں خلائی مخلوق سے رابطے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم انہوں نے کائنات میں زندگی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے خود ابھی تک خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیکھا اور وہ اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں۔
ادھر پینٹاگون کی حالیہ تحقیقات اور دو ہزار بائیس میں اعلیٰ فوجی حکام کے بیانات کے مطابق اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہے۔ دو ہزار چوبیس کی ایک سرکاری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہونے والی تحقیقات میں خلائی ٹیکنالوجی کے کوئی شواہد نہیں ملے اور زیادہ تر مشاہدات عام اشیاء یا موسمی مظاہر کی غلط شناخت کا نتیجہ تھے۔
