-Advertisement-

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے مشن پر حملہ، فرانسیسی فوجی ہلاک

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکرز پر حملہ، نئی دہلی کا ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج

بھارت نے آبنائے ہرمز میں اپنے پرچم بردار دو خام تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے حملے پر شدید...
-Advertisement-

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن یونائیٹڈ نیشنز انٹرم فورس ان لبنان (یونیفل) کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ گندوریہ کے مقام پر پیش آیا جب فوجی ایک سڑک کو کلیئر کر رہے تھے۔

فرانسیسی حکام اور یونائیٹڈ نیشنز امن مشن کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کا ذمہ دار ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیر برائے مسلح افواج کیتھرین ووٹورن نے بتایا کہ قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جب وہ جھڑپوں کے باعث منقطع ہونے والی ایک سپلائی لائن بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فونک رابطے میں مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور بے بنیاد الزامات پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ لبنانی فوج نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یونیفل 1978 سے لبنان میں تعینات ہے اور 2024 کی جنگ سمیت کئی تنازعات کے دوران بھی وہاں موجود رہی ہے۔ اس مشن کے اہلکاروں کو حالیہ کشیدگی کے دوران بارہا فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک الگ پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں ایک مبینہ عسکریت پسند سیل کو ہلاک کیا ہے جس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور یہ اقدامات جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہیں۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والا یہ جنگ بندی معاہدہ 16 اپریل کو نو بجے رات سے دس روز کے لیے نافذ ہوا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس معاہدے میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -