-Advertisement-

ٹرمپ اور ایرانی حکام کے بیانات امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے

تازہ ترین

ملائیشیا: خوفناک آتشزدگی سے ایک ہزار مکانات خاکستر، ہزاروں افراد بے گھر

ملائیشیا کی ریاست صباح کے ساحلی علاقے سانڈاکان میں خوفناک آتشزدگی کے باعث ایک ہزار کے قریب گھر جل...
-Advertisement-

برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کے بیانات نے خطے میں امن معاہدے کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ لبنان اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔

اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 12 ڈالر فی بیرل کی کمی دیکھی گئی جس کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کیا اور اسے یورینیم کے ذخائر برآمد کرنے کی اجازت دینے سے مشروط قرار دیا۔ تاہم ایران میں وزیر خارجہ کے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا اور بعض حلقوں نے اسے مارکیٹ میں ہیرا پھیری قرار دیتے ہوئے عباس عراقچی کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا۔

صورتحال اس وقت مزید الجھ گئی جب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے وضاحت کی کہ وزیر خارجہ کا بیان نامکمل تھا۔ ادھر پاسدارانِ انقلاب سمیت ایران کے سخت گیر حلقوں نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز صرف ان جہازوں کے لیے کھلے گی جنہیں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ اجازت دے گی اور امریکہ کے ساتھ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

کشیدگی میں اضافے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ بدھ کو جنگ بندی ختم ہوتے ہی وہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے امریکی مطالبات کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایرانی خارجہ پالیسی پر پاسدارانِ انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سخت گیر گروہوں کے غلبے کے باعث مذاکراتی عمل میں حائل رکاوٹوں کو ظاہر کرتی ہے۔

ایرانی وکیل رضا نصری کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بطور بین الاقوامی آبی گزرگاہ حیثیت خطرے میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب اس گزرگاہ کا ایک حصہ مخالف ساحلی ریاست کی تباہی کے لیے فوجی پلیٹ فارم بن جائے تو یہ ایک معمول کی بین الاقوامی آبنائے نہیں بلکہ ایک عسکری زون بن جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان سفارتی غلطیوں اور بیانات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات مزید سنگین ہو چکے ہیں اور امن کے امکانات معدوم پڑ گئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -