-Advertisement-

بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار

تازہ ترین

سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹ کا خیرمقدم، ایف پی سی سی آئی

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سعودی عرب کی جانب سے...
-Advertisement-

تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری کشیدگی کے درمیان امریکی وفد نئے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، وہ کسی مذاکراتی وفد کو پاکستان نہیں بھیجے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے مذاکرات کے لیے اپنی شرکت کو بحری محاصرے کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت بیان میں ایران پر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کرکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فورسز کی جانب سے فرانسیسی اور برطانوی بحری جہازوں پر فائرنگ عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے پر سکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن پہلے ہی خطے میں ناکہ بندی نافذ کر چکا ہے اور ایران کے اپنے اقدامات اس پابندی کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس راستے کی بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ کو بحری جہازوں کا رخ ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی بندرگاہوں کی جانب موڑنے سے کم سے کم اقتصادی نقصان کا سامنا ہے۔

امریکی صدر نے تہران کو براہ راست خبردار کیا کہ اگر مجوزہ معاہدہ قبول نہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے بنیادی ڈھانچے بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو ٹریفک کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ امریکی وفد کی آمد کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت کا تسلسل ہیں، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم رابطہ سمجھا جاتا تھا، تاہم وہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -