-Advertisement-

عالمی معیشت کا انحصار: فوسل فیولز سے چھٹکارا کیوں مشکل ہے؟

تازہ ترین

حکومت کا ایئرپورٹ سیکیورٹی اور مسافروں کی سہولت کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی منظوری کا فیصلہ

اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارت...
-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کا انحصار اب بھی بلیک گولڈ یعنی خام تیل پر ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی منڈیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس سے 2023 میں ہونے والی کوپ 28 کانفرنس کے دوران فوسل فیولز سے چھٹکارا پانے کے دعوے غیر مؤثر دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجہ فوسل فیولز کا استعمال ہے، تاہم اس کے باوجود ان ایندھنوں پر انحصار کم کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ برازیل کی کلائمیٹ آبزرویٹری کے پالیسی کوآرڈینیٹر کلاڈیو اینجلو کا کہنا ہے کہ فوسل فیول کمپنیوں کو راتوں رات بند کرنا ایک بے مثال عالمی معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

عراق، کویت اور سعودی عرب جیسے ممالک کی معیشت مکمل طور پر تیل پر منحصر ہے، جبکہ برازیل جیسے متنوع معاشی ماڈل رکھنے والے ممالک کے لیے بھی تیل کی برآمدات ختم کرنا معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا توانائی کے حوالے سے ڈرل بے بی ڈرل کا نعرہ اور ان کی جانب سے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں مداخلت کی پالیسی اس منتقلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

کلائمیٹ اینالیٹکس کے ڈائریکٹر بل ہیئر کے مطابق امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے پاس گرین انرجی کی جانب منتقلی کے وسائل موجود ہیں، مگر یہاں مسئلہ سیاسی عزم کا ہے۔ عالمی سطح پر دائیں بازو کے رہنماؤں کے برسرِ اقتدار آنے سے معاشی مفادات کو ماحولیاتی تبدیلیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ تیل و گیس کا شعبہ دنیا کا سب سے طاقتور لابی گروپ ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ میکنزی جیسی کنسلٹنگ فرمز کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں جو بڑی تیل کمپنیوں کے مفادات کا دفاع کرتی ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود، قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔ انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کے مطابق 2025 میں عالمی بجلی کی صلاحیت کا نصف حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کیا گیا جو ایک ریکارڈ ہے۔

چین اس شعبے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی شمسی توانائی کا استعمال 2020 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھا ہے اور اب یہ بجلی کے اہم ذرائع میں شامل ہو چکا ہے۔ بل ہیئر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا کے کچھ خطوں میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال سے بجلی کے بلوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -