اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت ملازمت 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہو رہی ہے جس کے بعد عالمی ادارے کی قیادت سنبھالنے کے لیے چار امیدوار میدان میں آ گئے ہیں۔ یہ امیدوار ایسے وقت میں عالمی ادارے کی باگ ڈور سنبھالنے کے خواہش مند ہیں جب اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران اور عالمی سطح پر جاری تنازعات کا سامنا ہے۔
منگل اور بدھ کے روز اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک اور غیر سرکاری تنظیمیں ان امیدواروں کا تین گھنٹے طویل انٹرویو کریں گی۔ یہ عمل 2016 میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کریں گے جنہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔
امیدواروں میں چلی کی مشیل بیچلیٹ، ارجنٹائن کے رافیل گروسی، کوسٹا ریکا کی ربیکا گرین اسپن اور سینیگال کے مکی سال شامل ہیں۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگلا سربراہ امریکی مفادات اور اقدار سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، کیونکہ امریکہ صرف بہترین امیدوار کی حمایت کرے گا۔
چلی کی 74 سالہ سابق صدر مشیل بیچلیٹ انسانی حقوق کی سربراہ رہ چکی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ موجودہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی موجودہ حکومت ان کی حمایت سے دستبردار ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ 65 سالہ رافیل گروسی بھی امیدوار ہیں۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین میں زاپوریژیا پلانٹ کے معاملات میں فعال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے اپنے بنیادی مقصد کی طرف لوٹنا ہوگا۔
کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر 70 سالہ ربیکا گرین اسپن اقوام متحدہ کے تجارتی ادارے انکٹاڈ کی سربراہی کر رہی ہیں۔ انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے والدین کی بیٹی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو انسانیت کے خلاف خطرات سے بچاؤ کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔
سینیگال کے سابق صدر 64 سالہ مکی سال واحد امیدوار ہیں جن کا تعلق لاطینی امریکہ سے نہیں ہے۔ برونڈی کی جانب سے نامزد کردہ مکی سال کا کہنا ہے کہ غربت اور عدم مساوات کے خاتمے کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ تاہم انہیں اپنے ہی ملک میں 2021 سے 2024 کے دوران سیاسی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات کا سامنا ہے، جبکہ افریقی یونین کے 55 میں سے 20 ارکان بھی ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔
