لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کلاس نے امید ظاہر کی ہے کہ یوکرین کے لیے 90 ارب یورو یعنی 105.94 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری کے حوالے سے بدھ کے روز مثبت پیش رفت متوقع ہے۔
اس اہم پیش رفت کا پس منظر ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی حالیہ انتخابی شکست کو قرار دیا جا رہا ہے۔ وکٹر اوربان کو یورپی یونین میں یوکرین کا سب سے سخت مخالف سمجھا جاتا تھا اور ان کی سیاسی پسپائی کے بعد اب کیف کے لیے روس کے خلاف جاری جنگ کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے درکار اس قرض کی راہ ہموار ہونے کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ یہ قرضہ بنیادی طور پر گزشتہ برس دسمبر میں یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کے اتفاق رائے سے طے پایا تھا۔
کایا کلاس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو اس وقت اس مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے اور یہ قرض اس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ روس یوکرین کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے موجودہ نازک صورتحال میں اس مالی امداد کو انتہائی اہم قرار دیا۔
اس موقف کی تائید آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ 90 ارب یورو کے قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کے 20 ویں پیکیج پر پیش رفت کرے۔
ہیلن میک اینٹی نے مزید کہا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے دورہ یوکرین کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یوکرین اس وقت ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں یہ قرض ملنا اس کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
