-Advertisement-

بحر الکاہل میں طوفان سے الٹنے والا امریکی جہاز: ایک لاپتہ عملے کی لاش برآمد

تازہ ترین

پہلگام واقعہ: ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت ثبوت پیش کرنے میں ناکام، عطا تارڑ کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا...
-Advertisement-

شمالی ماریانا جزائر کے قریب سمندری طوفان کے دوران الٹنے والے امریکی کارگو جہاز کے عملے کے لاپتہ چھ ارکان میں سے ایک کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق امریکی فضائیہ کے غوطہ خوروں نے زیر آب ڈرون کی مدد سے جہاز کے اندرونی حصے کی تلاشی لی جس کے دوران منگل کو یہ لاش ملی۔

جاپان کے کوسٹ گارڈ کے غوطہ خوروں نے بھی جہاز کا تفصیلی معائنہ کیا تاہم انہیں عملے کا کوئی اور فرد نہیں مل سکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈ کے فضائی دستے بدستور لاپتہ پانچ افراد اور بارہ افراد کی گنجائش والی نارنجی رنگ کی لائف رافٹ کی تلاش میں مصروف ہیں۔

کوسٹ گارڈ اور گوام، جاپان اور نیوزی لینڈ کی امدادی ٹیمیں اب تک 99 ہزار مربع میل سے زائد رقبے پر سرچ آپریشن مکمل کر چکی ہیں۔ مارینا نامی 145 فٹ طویل امریکی جہاز نے 15 اپریل کو کوسٹ گارڈ کو اطلاع دی تھی کہ سپر ٹائفون سنلاکُو کے باعث جہاز کا دایاں انجن خراب ہو گیا ہے اور اسے مدد درکار ہے۔ اگلے روز جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

کوسٹ گارڈ اوشیانا ڈسٹرکٹ کے سرچ اینڈ ریسکیو مشن کوآرڈینیٹر کمانڈر پریسٹن ہیب نے کہا کہ ان کے دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ شدید ہواؤں کے باعث ابتدائی امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم ہفتے کے روز یہ جہاز شمالی ماریانا جزائر میں شامل پیگن نامی جزیرے سے 40 میل شمال مشرق میں الٹی حالت میں پایا گیا۔

نیشنل ویدر سروس کے مطابق سپر ٹائفون سنلاکُو نے ٹینین اور سائپن کے جزائر کو شدید متاثر کیا جہاں ہواؤں کی رفتار 150 میل فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ طوفان 2026 کا اب تک کا طاقتور ترین طوفان ثابت ہوا ہے جس نے ساحلی علاقوں میں تباہی مچائی۔ مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں سائپن کے متاثرہ علاقوں میں صفائی کے کاموں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -