تہران نے ملکی قیادت کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملکی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر متحد ہے اور حکومتی سطح پر ہم آہنگی مثالی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایرانی قیادت اہم قومی معاملات پر ایک ہی نقطہ نظر رکھتی ہے اور ان افواہوں کا مقصد صرف پراپیگنڈا کرنا ہے۔
ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کی بنیاد برابری، وقار اور دانشمندی کے اصولوں پر رکھی جائے گی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ تہران اپنی سفارتی حکمت عملی میں ان اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور داخلی استحکام بدستور برقرار ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے تاکہ ایران اپنی تجاویز پیش کر سکے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو متوقع ہے۔
ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ناکہ بندی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فورسز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں پر بھی توجہ مرکوز ہے۔
