-Advertisement-

امریکا کی ایشیائی سمندری حدود میں ایرانی تیل بردار جہازوں کی روک تھام

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر کی ملاقات، پاک ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی...
-Advertisement-

امریکی فوج نے ایشیائی سمندری حدود میں ایرانی پرچم بردار کم از کم تین آئل ٹینکرز کو روک کر انہیں بھارت، ملائیشیا اور سری لنکا کے قریب ان کے راستوں سے موڑ دیا ہے۔ شپنگ اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سمندری تجارت پر عائد کردہ ناکہ بندی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فائرنگ کی ہے تاکہ انہیں اس گزرگاہ سے نکلنے سے روکا جا سکے۔ ایران اور امریکا و اسرائیل کے مابین جنگ شروع ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں اور غیر مستحکم جنگ بندی کے باوجود امن مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ایک پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

شپنگ ذرائع کے مطابق امریکی فورسز نے حال ہی میں ایرانی کارگو جہاز اور ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا ہے۔ بدھ کے روز ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو کنٹینر جہازوں کو فائرنگ کے بعد پکڑ لیا ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈورینا نامی سپر ٹینکر کو، جو خام تیل کے دو ملین بیرل سے لدا ہوا تھا اور تین روز قبل جنوبی بھارت کے ساحل پر دیکھا گیا تھا، امریکی بحریہ کے تباہ کن جہاز کی نگرانی میں بحر ہند میں رکھا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ڈورینا نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی۔

دیگر قبضے میں لیے گئے جہازوں میں ڈیپ سی سپر ٹینکر اور سیون نامی ٹینکر شامل ہیں۔ ڈیپ سی ٹینکر کو ایک ہفتہ قبل ملائیشیا کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا جبکہ سیون ٹینکر، جو اپنی گنجائش کے 65 فیصد تک تیل سے لدا تھا، ایک ماہ سے لاپتہ تھا۔ اس کے علاوہ ڈیریہ نامی ٹینکر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ اسے امریکی فورسز نے روکا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکی فورسز 29 تجارتی جہازوں کو واپس موڑنے یا بندرگاہ پر لوٹنے پر مجبور کر چکی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج آبی بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچنے کے لیے ایرانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے دور کھلے سمندر میں نشانہ بنا رہی ہے۔ امریکی فوج نے ان کارروائیوں پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -