برطانوی شاہ چارلس کے چھوٹے صاحبزادے شہزادہ ہیری نے یوکرین کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے جس کا مقصد روس کے خلاف برسرپیکار ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ کیئف میں سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ہیری نے کہا کہ یوکرین بہادری اور کامیابی کے ساتھ یورپ کے مشرقی محاذ کا دفاع کر رہا ہے۔
شہزادہ ہیری نے کہا کہ یوکرین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے امریکا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب یوکرین نے اپنے جوہری ہتھیار ترک کیے تھے تو امریکا نے اس کی سرحدوں اور خودمختاری کے احترام کی ضمانت دی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وقت امریکی قیادت کے امتحان کا ہے تاکہ وہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی اسٹریٹجک ذمہ داری پوری کرے۔
یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کی حمایت کو سراہتے ہوئے شہزادہ ہیری نے کہا کہ یورپ نے گراں قدر کردار ادا کیا ہے تاہم اب دفاعی امداد کی رفتار میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس جنگ کو لبرل جمہوریت اور آمریت کے درمیان نظریاتی کشمکش قرار دیا۔
یوکرین سے ہزاروں بچوں کی جبری منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عمل صرف جنگی جرم نہیں بلکہ نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو ان کے وطن سے دور کرنا ایک قوم کی شناخت مٹانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
