-Advertisement-

ایران کے ساتھ تنازع میں امریکا کے 35 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار ضائع

تازہ ترین

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، مزید 5 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں مزید پانچ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جس کے...
-Advertisement-

نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران امریکہ نے 28 سے 35 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی عسکری ذخائر پر گہرا دباؤ پڑا ہے اور ملکی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے خدشات نے جنم لیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختصر عرصے میں جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے بڑے پیمانے پر استعمال نے نہ صرف امریکی ذخائر کو کم کر دیا ہے بلکہ چین اور روس جیسے حریفوں کے ساتھ ممکنہ تنازعات کی صورت میں واشنگٹن کی تیاری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تنازع کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 1100 طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائل فائر کیے ہیں جن میں سے کئی میزائل چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے مختص تھے۔ اس کے علاوہ 1000 سے زائد ٹوماہاک میزائل بھی استعمال کیے گئے جو کہ امریکہ کی سالانہ خریداری سے دس گنا زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1100 جاسم-ای آر میزائل بھی داغے گئے جن میں سے ہر ایک کی قیمت 11 لاکھ ڈالر ہے اور اب امریکی انوینٹری میں صرف 1500 میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ مزید برآں 1200 سے زائد پیٹریاٹ میزائل جن میں سے ہر ایک کی قیمت 40 لاکھ ڈالر سے زائد ہے اور 1000 سے زائد جدید گراؤنڈ اٹیک میزائل بھی اس تنازع کی نذر ہوئے۔

ان ہتھیاروں کی بھاری مقدار میں تعیناتی کے باعث امریکہ کو ایشیا اور یورپ میں موجود اپنے کمانڈ مراکز سے ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے جس سے ان خطوں میں امریکی دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے حریفوں کے خلاف واشنگٹن کی فوری ردعمل کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

امریکی حکام اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے مہنگے اور محدود پیداوار والے ہتھیاروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب دفاعی صنعت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ڈرونز سمیت کم قیمت اور مؤثر نظام کی پیداوار میں اضافہ کرے۔

اٹھتیس روزہ تنازع کے دوران 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے کئی اہداف پر متعدد بار حملے کیے گئے جس سے گولہ بارود کا استعمال مزید بڑھ گیا۔ پینٹاگون نے اگرچہ تنازع کی مجموعی لاگت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم حکام نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عسکری وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔

دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں تین طیارہ بردار اسٹرائیک گروپس بشمول یو ایس ایس ابراہم لنکن، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات ہیں جو کہ جاری کشیدگی کے دوران بحری طاقت کا ایک نادر اجتماع ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -