-Advertisement-

آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تجارتی جہازوں کو امریکی بحری تحفظ کی ضرورت ہوگی، شیورون سی ای او

تازہ ترین

عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں جاری اہم سفارتی مصروفیات...
-Advertisement-

واشنگٹن میں شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد تجارتی جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے امریکی بحریہ کی نگرانی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں موجود خطرات محض بارودی سرنگوں تک محدود نہیں بلکہ خشکی سے بھی حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران مائیک ورتھ نے واضح کیا کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزارنے کے لیے عملے اور کارگو کی مکمل سیکیورٹی کا یقین ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مراحل میں امریکی بحریہ اور دیگر عالمی عسکری اداروں کے تعاون سے بحری محافظ دستوں کی موجودگی ہی اعتماد بحال کر سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت عروج پر ہے جب ایران کی جانب سے دھمکیوں اور امریکی پابندیوں کے باعث اس اہم تجارتی گزرگاہ پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد بحری واقعات نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مائن سویپرز آبنائے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور انہیں نشانہ بنائیں۔

دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جس کے باعث اس گزرگاہ کی سیکیورٹی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ مائیک ورتھ کے مطابق شیورون کسی بھی جہاز کو روانہ کرنے کا حتمی فیصلہ امریکی بحریہ کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کرے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -