-Advertisement-

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی فوجی کارروائی، جہاز پر موجود دو افراد ہلاک

تازہ ترین

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید، ترک وزیر خارجہ کا بیان

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے حوالے سے امید کا...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی فوج نے مشرقی بحر الکاہل میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکی سدرن کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کی گئی تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسے ماورائے عدالت قتل قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق نامعلوم دہشت گرد تنظیموں سے تھا۔ حکام نے ہلاک شدگان کو منشیات کے دھندے میں ملوث دہشت گرد قرار دیا ہے تاہم ان کی شناخت یا تنظیموں کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا جو منشیات کی اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہا تھا۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کی 16 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی نقل و حمل میں ملوث ہونے کے شبہے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر سے اب تک ایسی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 170 سے تجاوز کر چکی ہے۔ امریکی فوج کی ان کارروائیوں پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان حملوں کو غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکن سول لبرٹیز یونین نے ٹرمپ انتظامیہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بلا جواز اور خوف پھیلانے والی مہم قرار دیا ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی عدالتی عمل کے اس طرح کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -