-Advertisement-

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ عمان کے بعد آج دوبارہ پاکستان آمد کا امکان

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دوبارہ دورہ پاکستان متوقع

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان کا رخ کریں گے۔ سرکاری خبر رساں...
-Advertisement-

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اتوار کے روز دوبارہ پاکستان پہنچیں گے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ اپنے دورہ روس سے قبل اسلام آباد کا ایک اور دورہ کریں گے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مشاورت کو آگے بڑھانا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کا ایک حصہ تہران واپس گیا تھا تاکہ جنگ بندی اور دیگر متعلقہ امور پر ضروری ہدایات حاصل کی جا سکیں، یہ وفد اتوار کی شب اسلام آباد میں عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کرے گا۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں عباس عراقچی نے پاکستان کے دورے کو انتہائی ثمر آور قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابل عمل فریم ورک پاکستان کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کے کردار اور برادرانہ کوششوں کو سراہا۔

امریکی ارادوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکہ سفارت کاری کے معاملے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ آٹھ ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس سے قبل دو ہفتے قبل اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔ یہ تنازع اٹھائیس فروری کو شروع ہوا تھا جس کے بعد آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی تھی جسے بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع دی تھی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا طے شدہ دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے وفد کو سفر سے روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امریکہ کے پاس تمام کارڈز موجود ہیں، ایران جب چاہے رابطہ کر سکتا ہے لیکن اب مزید طویل پروازیں کر کے بے نتیجہ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر رکھا ہے اور کہا ہے کہ تمام تحفظات پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔ مذاکرات میں اہم رکاوٹوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور ایران کی یورینیم افزودگی کے معاملات شامل ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -