-Advertisement-

پریس ڈنر کے قریب فائرنگ: ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی پر دوبارہ سوالات اٹھ گئے

تازہ ترین

وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر: فائرنگ کے واقعے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے نے امریکی سیاسی قیادت کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کابینہ کے اہم ارکان، قانون ساز اور معروف شخصیات موجود تھیں، جن کی حفاظت کے لیے سیکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص شاٹ گن، ہینڈ گن اور چاقوؤں سمیت اس ہوٹل کی بالائی منزل پر موجود تھا جہاں تقریب جاری تھی۔ اس واقعے میں ایک سکیورٹی ایجنٹ زخمی ہوا، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی قابو کر لیا گیا۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے سکیورٹی اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا، تاہم انہوں نے ہوٹل کی سکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر محفوظ قرار دیا۔

تقریب کے دوران شرکا کو میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزرنا پڑا، لیکن ہوٹل کے عمومی داخلی راستے پر داخلہ صرف ٹکٹ دکھانے تک محدود تھا۔ اسی دوران باہر ایران کے خلاف جنگ کے خلاف مظاہرین بھی موجود تھے، جس کی وجہ سے داخلے کے عمل میں جلدی کی گئی۔ ویڈیو فوٹیج میں حملہ آور کو سکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد اس نے ایجنٹ پر فائرنگ کی۔

فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی ہال میں موجود کابینہ کے ارکان کے سکیورٹی دستوں نے اپنے تحفظ میں موجود افراد کو زمین پر لٹا کر انسانی ڈھال بنا لی۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو فوری طور پر مرکزی میز سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

یہ واقعہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے دو سال سے بھی کم عرصے میں پیش آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا سب سے جدید سکیورٹی نظام بھی کمزوریوں سے خالی نہیں ہے۔ امریکی حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا سکیورٹی انتظامات میں کوئی کوتاہی یا مواصلاتی خامی تو نہیں رہی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -