امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے قریب فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم نے انتظامیہ کے ارکان اور غالباً صدر کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر وہاں سے بذریعہ ٹرین واشنگٹن ڈی سی کا سفر کیا۔
قائم مقام اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم پر پیر کے روز وفاقی عدالت میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔ اس پر وفاقی افسر پر حملے اور وفاقی افسر کو قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کرنے کے الزامات شامل ہوں گے۔ ٹوڈ بلانچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اتوار کی صبح تک ملزم تفتیشی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا تھا۔
یاد رہے کہ ہفتے کی رات واشنگٹن کے ہٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ایک شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر تعینات سیکریٹ سروس کے اہلکار پر شاٹ گن سے فائرنگ کر دی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے ایجنٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو بحفاظت وائٹ ہاؤس سے باہر لے گئے تھے۔ حکام کے مطابق حملہ آور کو موقع پر ہی قابو پا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
