فلسطینی میونسپل انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامیوں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق یہ پولنگ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار غزہ کی پٹی کے ایک ایسے شہر میں بھی منعقد کی گئی جہاں حماس کا کنٹرول ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والی یہ ووٹنگ 2006 کے بعد غزہ میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں اور یہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد فلسطینی علاقوں میں ہونے والی پہلی پولنگ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ غزہ کے شہر دیر البلاح میں انتخابات کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔
فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے اتوار کے روز نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات انتہائی حساس وقت اور پیچیدہ حالات میں منعقد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے اور قومی اتحاد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
غزہ میں حماس نے باضابطہ طور پر اپنے امیدوار نامزد نہیں کیے اور مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دیر البلاح میں کچھ امیدواروں کو حماس کی حمایت حاصل تھی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلاح برنگز اس ٹوگیدر نامی فہرست نے 15 میں سے صرف دو نشستیں حاصل کیں، جبکہ صدر عباس کی جماعت فتح کی حمایت یافتہ نہضت دیر البلاح نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
مغربی کنارے میں صدر عباس کے وفاداروں نے کلین سویپ کیا ہے جہاں کئی نشستوں پر انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فتح کے ترجمان عبدالفتاح الدولہ نے کہا کہ ووٹرز نے اسرائیلی تشدد کے باوجود بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیاسی تجزیہ کار ریہم عودہ کا کہنا ہے کہ فتح سے منسلک امیدواروں کو منتخب کر کے ووٹرز میونسپل گورننس کے لیے بین الاقوامی حمایت کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔
سنٹرل الیکشن کمیشن کے چیئرمین رامی الحمد اللہ نے بتایا کہ غزہ میں ٹرن آؤٹ 23 فیصد جبکہ مغربی کنارے میں 56 فیصد رہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی سکیورٹی پابندیوں کے باعث کچھ انتخابی سامان غزہ پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وسیع تر قومی مسائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
