-Advertisement-

ایران کی نئی تجویز کے باوجود امریکہ کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار

تازہ ترین

انڈونیشیا: معدومی کے خطرے سے دوچار اورنگوٹان کا سڑک پار کرنے کے لیے انسانی ساختہ پل کا استعمال

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پہلی بار ایک سوماتران اورنگوٹان کو عوامی سڑک عبور کرنے کے لیے انسانوں کے...
-Advertisement-

ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ نئی تجویز کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مذاکرات کی بحالی کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی، اس سے قبل وہ پاکستان اور عمان کے دورے بھی کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کو مستقبل کے لیے ملتوی کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ایران نے پیشکش کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے بدلے میں واشنگٹن سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی اٹھانے اور طویل المدتی یا مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پیشکش کو مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت جیسے بنیادی نکات کا احاطہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب امریکی وفد نے اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔ اسلام آباد میں مذاکرات کی توقع میں قائم کیے گئے سیکیورٹی چیک پوائنٹس بھی ہٹا دیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان فوری طور پر مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ایران کے ساتھ غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، لیکن عملی طور پر کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی بحریہ کے تین طیارہ بردار جہازوں کا گروپ، جن میں یو ایس ایس ابراہم لنکن، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش شامل ہیں، خطے میں موجود ہیں، جبکہ یو ایس ایس طرابلس کی قیادت میں ایک ایمفیبیئس اسالٹ گروپ بھی علاقے میں تعینات ہے۔

عالمی معیشت پر بھی اس تنازع کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل میں تعطل سے عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ ایندھن کی قلت کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ایران کا تمام تر افزودہ یورینیم تہران کے پاس ہی موجود ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ جون میں امریکی بمباری سے تباہ ہونے والی تنصیبات کے ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ روس نے اس یورینیم کو اپنی تحویل میں لینے کا اشارہ دیا تھا، تاہم ایران اپنے ذخائر حوالے کرنے سے تاحال انکاری ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -