-Advertisement-

امریکی حکومت کی بندش: ایک ہزار سے زائد ٹی ایس اے اہلکار ملازمت چھوڑ گئے

تازہ ترین

امریکہ اب دیگر ممالک پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ایران

تہران نے منگل کے روز واشنگٹن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ فروری کے وسط سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے بعد اب تک ایک ہزار سے زائد ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن یعنی ٹی ایس اے کے افسران اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے آخری ہفتے تک یہ تعداد 460 تھی جو گزشتہ ہفتے تک بڑھ کر 780 سے تجاوز کر گئی اور اب یہ تعداد ایک ہزار سے بھی اوپر پہنچ چکی ہے۔

بہار کے موسم میں طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ٹی ایس اے کے 50 ہزار ملازمین چھ ہفتوں تک تنخواہوں سے محروم رہے جس کے نتیجے میں ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی انتظامات شدید متاثر ہوئے۔ کئی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے چار گھنٹے سے زائد طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑا۔

ٹی ایس اے کے ملازمین امریکہ کے تقریباً تمام ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تلاشی اور سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے فنڈز کی منظوری کو روک رکھا ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کے قوانین میں تبدیلی کی جائے۔ آئی سی ای بھی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا ہی حصہ ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن میں آئی سی ای کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ یہ کریک ڈاؤن بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی نے خاص طور پر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس کریک ڈاؤن کو ملکی سلامتی اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

اس صورتحال کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے رواں ماہ کے اوائل میں ٹی ایس اے کے بیشتر آپریشنز کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور تقریباً 10 ہزار ملازمین کی برطرفی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -