-Advertisement-

ایرانی حملوں کے ردعمل پر غور: سعودی عرب میں خلیجی رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس

تازہ ترین

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے: 9 سالہ بچے سمیت 5 فلسطینی شہید

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 72 ہزار 500 سے تجاوز...
-Advertisement-

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں خلیج تعاون کونسل کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دو ماہ قبل ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد خلیجی رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں خلیجی ریاستوں کو درپیش میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔

اس جنگ کے دوران تمام چھ خلیجی ممالک کے توانائی کے اہم انفراسٹرکچر، فوجی تنصیبات اور نجی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آٹھ اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے تاہم خطے کے دارالحکومتوں میں بدستور تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ایک مستقل امن معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اجلاس میں قطر کے امیر، کویت کے ولی عہد، بحرین کے بادشاہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے شرکت کی۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، باہمی تعاون اور خطے کے استحکام کو یقینی بنانے کے معاملات زیر بحث آئے۔ سعودی ولی عہد نے خلیجی رہنماؤں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے باہمی رابطوں اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیدار انور قرقاش نے خلیج تعاون کونسل کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے لاجسٹک سطح پر تو ایک دوسرے کی مدد کی لیکن سیاسی اور عسکری اعتبار سے یہ کونسل کی تاریخ کا کمزور ترین موقف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عرب لیگ سے تو ایسی توقع تھی لیکن خلیج تعاون کونسل سے اس طرح کے غیر فعال ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -