سویڈن کے جنوب مشرقی ساحل پر سولہویں صدی کا ایک قدیم بحری جہاز دریافت ہوا ہے جو تاریخی اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ حکام نے منگل کے روز اس اہم دریافت کی تصدیق کی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ جہاز سولہویں صدی کے اواخر میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ دریافت سویڈن کے مشہور سترہویں صدی کے جنگی جہاز واسا سے بھی قدیم ہے، جسے 1960 کی دہائی میں سمندر سے نکال کر اسٹاک ہوم میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔
بحریہ کے جہاز ایچ ایم ایس بیلاس نے اس ملبے کو 2025 کے اواخر میں ایک فوجی مشق کے دوران کالمار سٹریٹ سے دریافت کیا۔ یہ مقام سویڈن کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے اور بالٹک سمندر میں واقع جزیرے اولینڈ کے درمیان موجود ہے۔
کالمار کے ضلعی انتظامی بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جہاز کے ملبے کے لکڑی کے نمونوں کا سائنسی تجزیہ کیا گیا ہے جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ اس کی تعمیر 1500 کی دہائی کے آخر میں ہوئی تھی۔ ماہر آثار قدیمہ ڈینیئل ٹیڈنلینڈ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے انتہائی گراں قدر ہے۔
فی الحال اس مقام کو تاریخی یادگار قرار دے کر حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور کوسٹ گارڈ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں غوطہ خوری، ماہی گیری اور لنگر انداز ہونے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بحیرہ بالٹک کا ٹھنڈا، تاریک اور کم آکسیجن والا پانی لکڑی کے قدیم ڈھانچوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے قبل فروری میں بھی ایک چار سو سال پرانا جہاز پانی کی سطح نیچے جانے کے باعث نمودار ہوا تھا۔
خطے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد اہم دریافتیں ہوئی ہیں۔ جولائی 2024 میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے اسی سمندر کی تہہ سے شراب کی بڑی کھیپ دریافت کی تھی جسے حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ اسی سال محققین نے ایک اور قدیم جہاز سے ہتھیاروں کا باکس اور بکتر بند لباس کے ٹکڑے بھی دریافت کیے تھے۔
