-Advertisement-

اسٹیٹ ڈنر: کنگ چارلس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر دلچسپ طنزیہ جملہ

تازہ ترین

بھارت: بینک سے رقم نکلوانے کے لیے شخص نے بہن کی قبر کشائی کر کے لاش بینک پہنچا دی

بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں ایک انتہائی افسوسناک اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک عشائیے کے دوران برطانوی بادشاہ چارلس سوئم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا جس نے تقریب کو ایک یادگار رنگ دیا۔ بادشاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کے یورپی اتحادیوں کو دفاعی اخراجات پر تنقید کا نشانہ بنانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے شگفتہ انداز میں جواب دیا۔

صدر ٹرمپ نے جنوری میں ڈیووس سمٹ کے دوران کہا تھا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن زبان بول رہے ہوتے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے بادشاہ چارلس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو شاید امریکی فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔ بادشاہ نے یہ بات شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں کہی۔

تقریب کے دوران بادشاہ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تعمیراتی تبدیلیوں پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے 1814 میں برطانوی فوج کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو نذر آتش کرنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے بھی ماضی میں وائٹ ہاؤس کی ری ڈیولپمنٹ کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے 1773 کے بوسٹن ٹی پارٹی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عشائیہ اس تاریخی واقعے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جوابی مزاح کا مظاہرہ کرتے ہوئے بادشاہ چارلس کی کانگریس میں کی گئی تقریر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہ نے ڈیموکریٹس کو بھی کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا جو ان کے لیے کبھی ممکن نہیں رہا۔

ملاقات کے دوران بادشاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو دوسری جنگ عظیم کے برطانوی آبدوز ایچ ایم ایس ٹرمپ کی گھنٹی تحفے میں پیش کی۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ گھنٹی دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ اور تابناک مستقبل کی علامت ہے اور اگر کبھی امریکہ کو برطانیہ کی ضرورت پڑے تو وہ انہیں کال کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر شرکاء نے تالیوں کے ساتھ بادشاہ کے اس جملے کو سراہا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -