فلپائن کی پارلیمنٹ کی جسٹس کمیٹی نے نائب صدر سارہ دوتیرتے کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے مستقبل کے صدارتی امیدوار بننے کے راستے میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔
کمیٹی کے تمام تر 53 ارکان نے متفقہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ نائب صدر کے خلاف مواخذے کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔ اب یہ معاملہ اگلے ماہ کانگریس کے اجلاس کے دوران ایوان میں پیش کیا جائے گا جہاں ایک تہائی ارکان کی حمایت سے اسے سینیٹ میں بھیجا جا سکے گا، جہاں سے مجرم قرار پانے کی صورت میں سارہ دوتیرتے نہ صرف اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی بلکہ ان پر تاحیات سیاست کرنے پر پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے۔
سارہ دوتیرتے پر سول سوسائٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال، غیر واضح ذرائع سے دولت جمع کرنے اور صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر، ان کی اہلیہ اور سابق اسپیکر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
نائب صدر کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی کارروائی آئینی تقاضوں سے ہٹ کر کی گئی ہے اور یہ عمل ایک مکمل عدالتی ٹرائل کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
واضح رہے کہ سارہ دوتیرتے اور صدر مارکوس کے درمیان سیاسی اتحاد ٹوٹنے کے بعد سے دونوں کے مابین شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ سن 2022 کے انتخابات میں دونوں نے ایک ساتھ کامیابی حاصل کی تھی تاہم اب سارہ دوتیرتے 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے مضبوط امیدوار سمجھی جاتی ہیں۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی دوتیرتے خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کو بھی اپنے دور حکومت میں انسداد منشیات مہم کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے باعث دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمات کا سامنا ہے۔
اگر سارہ دوتیرتے کے خلاف مواخذہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ فلپائن کی تاریخ میں مواخذے کا سامنا کرنے والی دوسری اعلیٰ ترین عہدیدار بن جائیں گی۔ اس سے قبل سابق صدر جوزف ایسٹراڈا کے خلاف بھی مواخذے کی کارروائی ہوئی تھی جبکہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریناٹو کورونا کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
