-Advertisement-

ایران پر میزائل حملے کی وائرل ویڈیو پرانی اور جھوٹی نکلی

تازہ ترین

یوکرین میں تعینات امریکی سفیر جولی ڈیوس کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ، تنازع کی تردید

یوکرین میں تعینات امریکی سفارت خانے کی قائم مقام سربراہ جولی ڈیوس جون میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو...
-Advertisement-

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منگل کے روز سے ایران نواز اکاؤنٹس کی جانب سے ایک ویڈیو وائرل کی جا رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایران پر جاری کشیدگی کے دوران ہونے والے میزائل حملوں کی فوٹیج ہے۔ تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور درحقیقت سات مارچ کو تہران کے آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کی ہے۔

خطے میں جاری تناؤ کے دوران اٹھائیس فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے جواب میں تہران نے سات خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کی ثالثی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق آٹھ اپریل سے ہونا تھا۔ دو ہفتوں پر محیط اس مشروط جنگ بندی میں اکیس اپریل کو توسیع کر دی گئی تھی تاکہ امن مذاکرات جاری رہ سکیں۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد تیرہ اپریل کو امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کا محاصرہ کر لیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق صرف انہی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کر رہے ہوں۔

منگل کے روز ایران نواز اکاؤنٹس نے وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایران پر بڑا میزائل حملہ ہوا ہے۔ ان پوسٹس میں لکھا گیا کہ تنازع ایک نئے موڑ پر پہنچ چکا ہے اور ایران کے لیے دعا کی اپیل کی گئی۔ ان ویڈیوز کو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا گیا اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

حقائق کی جانچ کے لیے کیے گئے عمل میں جب مختلف عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو آٹھ مارچ کو این ڈی ٹی وی پرافٹ پر نشر کی گئی تھی۔ اس ویڈیو کا عنوان تہران کے آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کے بعد لگنے والی آگ تھا۔

الجزیرہ نے بھی سات مارچ کو اسی واقعے کی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دکھائی گئی عمارت اور ٹاور وہی ہیں جو وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے نائن نیوز نے بھی نو مارچ کو اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ یہ مناظر سات مارچ کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے ہیں۔

آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس فیکٹ چیک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وائرل ویڈیو کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے گمراہ کن سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ سی ای جے آئی بی اے اور یو این ڈی پی کے مشترکہ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -