امریکی حکام نے گوئٹے مالا کے منشیات فروش گروہ کے ایک مبینہ سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر تھی۔ امریکی سفارت خانے کے مطابق یوجینیو مولینا لوپیز پر لاس ہوئسٹاس نامی گینگ کی سربراہی کا الزام ہے جو جنوبی امریکہ سے کوکین میکسیکن کارٹیلز کے ذریعے امریکہ اسمگل کرتے تھے۔
امریکی اٹارنی آفس برائے سدرن ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ملزم کو سان ڈیاگو سے حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں گرفتاری کی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
اکسٹھ سالہ مولینا لوپیز، جو ڈون ڈاریو کے نام سے بھی مشہور ہے، نے جمعہ کو وفاقی عدالت میں پیشی کے دوران اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ ملزم پر کوکین کی درآمد اور تقسیم کی سازش کا الزام ہے جس کے تحت اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
امریکی اٹارنی ایڈم گورڈن نے کہا کہ دنیا کے بدنام ترین منشیات فروشوں میں شمار ہونے والے ایک شخص کا انجام اب کیلیفورنیا کی عدالت میں ہوگا۔ سفارت خانے کے مطابق لاس ہوئسٹاس کا گروہ گوئٹے مالا اور میکسیکو کی سرحد کے قریب فعال ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ گروہ شمالی گوئٹے مالا سے کوکین، میتھمفیٹامائن اور ہیروئن امریکہ اسمگل کرتا ہے جس میں سینالوا اور جلیسکو نیو جنریشن جیسے میکسیکن کارٹیلز کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ سن 2022 میں امریکہ نے اس گروہ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
یاد رہے کہ مارچ 2025 میں لاس ہوئسٹاس کے ایک اور اہم رہنما ایلیر بالڈومیرو سامایویا کو میکسیکو سے گرفتار کرکے گوئٹے مالا کے حوالے کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکہ پہنچنے والی نوے فیصد کوکین ٹرکوں، طیاروں، کشتیوں اور آبدوزوں کے ذریعے وسطی امریکہ اور میکسیکو سے گزرتی ہے۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایک روز قبل ہی پانچ ملین ڈالر کے انعام یافتہ جلیسکو کارٹیل کے ایک سرکردہ رہنما کو بھی میکسیکو سے حراست میں لیا گیا تھا۔
