-Advertisement-

وفاقی حکومت کی صوبوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شاہ چارلس سوم کے ساتھ نجی گفتگو کے انکشاف پر سفارتی حلقوں میں تشویش

لندن میں شاہ چارلس سوئم اور ملکہ کمیلا کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
-Advertisement-

وفاقی حکومت نے ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں تمام صوبوں کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی پیش رفت رپورٹ فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ حکام نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وفاقی اداروں کو چار مئی تک کارکردگی رپورٹس جمع کرانے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

رپورٹ میں انسداد انتہا پسندی کے فریم ورک کے تحت کلیدی نکات پر پیش رفت کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی کو سماجی و سیاسی شعبے میں مرکزی مانیٹرنگ کا کردار سونپا گیا ہے تاکہ تمام اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

صوبوں اور وفاقی اداروں کے لیے ایک یکساں رپورٹنگ فارمیٹ جاری کیا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کو معیاری بنایا جا سکے۔ یہ رپورٹس براہ راست ایپکس کمیٹی سیکرٹریٹ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بروقت یا ناقص رپورٹنگ کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔

حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے جامع جائزے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا حکم دیا ہے جسے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نیشنل کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم انیشیٹو پر بھی پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

ہدایات کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن، مساجد و مدارس میں اصلاحات کے نفاذ اور پسماندہ علاقوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی اقدامات پر اپ ڈیٹس درکار ہیں۔

حکام نے انتہا پسندانہ اور دہشت گرد بیانیے کی روک تھام، تفویض کردہ ٹاسک پر عمل درآمد اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کی نگرانی پر بھی نقطہ وار رپورٹ مانگی ہے۔ اس مشق کا مقصد عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کا تعین کرنا اور سکیورٹی و انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -