-Advertisement-

اطالوی وزیراعظم کی نیتن یاہو کو نظر انداز کرنے والی وائرل ویڈیو جعلی اور اے آئی سے تیار کردہ نکلی

تازہ ترین

فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، 1992 کے بعد سب سے زیادہ اختلاف سامنے آیا

امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم،...
-Advertisement-

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور یوٹیوب پر 29 اپریل 2026 سے ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کو نظر انداز کر دیا۔ تاہم، تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں جارجیا میلونی کو فلسطینی پرچم کا مفلر پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں نیتن یاہو ان سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ انہیں نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اس پوسٹ کو ایک پرو ایرانی اکاؤنٹ نے شیئر کیا جسے پانچ لاکھ ترپن ہزار سات سو سے زائد بار دیکھا گیا، جبکہ دیگر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی اسے بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

حقائق کی جانچ کرنے پر معلوم ہوا کہ ویڈیو میں موجود فلسطینی مفلر پر درج عربی تحریر بے معنی ہے، جو اے آئی مواد کی واضح نشانی ہے۔ ڈیپ ویئر، ہائیو ماڈریشن، ٹروتھ اسکین اور سورا ڈیٹیکٹ جیسے جدید ٹولز نے بھی اس ویڈیو کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا یا کسی بھی مستند اطالوی نشریاتی ادارے نے اس طرح کے کسی واقعے کی رپورٹنگ نہیں کی۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا آخری اجلاس ستمبر 2025 میں ہوا تھا جس میں دونوں رہنما شریک تھے، لیکن وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

یاد رہے کہ اٹلی مشرق وسطیٰ کے تنازع میں محتاط اور غیر عسکری مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ وزیراعظم میلونی نے واضح کیا ہے کہ اٹلی اس جنگ میں حصہ نہیں لے گا اور روم کی جانب سے سفارت کاری پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اٹلی روایتی طور پر اسرائیل کا اتحادی رہا ہے تاہم حالیہ کشیدگی کے پیش نظر اٹلی نے دفاعی معاہدے کی تجدید معطل کر دی ہے۔

آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اطالوی وزیراعظم کے متعلق گردش کرنے والی ویڈیو سراسر جھوٹ پر مبنی اور اے آئی سے تیار کردہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -