-Advertisement-

نیوزی لینڈ: کرائسٹ چرچ مسجد حملے کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد

تازہ ترین

نیویارک کے میئر زوہراں ممدانی کا شاہ چارلس سے کوہ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے برطانوی بادشاہ چارلس کے دورہ نیویارک کے دوران کوہ نور ہیرا واپس کرنے...
-Advertisement-

نیوزی لینڈ کی عدالتِ اپیل نے کرائسٹ چرچ مساجد پر حملے کے مجرم برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرم کی جانب سے اعترافِ جرم کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کو بے بنیاد اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔

آسٹریلوی نژاد برینٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں 51 افراد شہید اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ مجرم نے 26 مارچ 2020 کو قتل اور دہشت گردی کے تمام الزامات کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد اگست 2020 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مجرم نے نومبر 2022 میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جو مقررہ وقت سے 505 کاروباری دن تاخیر کا شکار تھی۔ اس کے وکلاء نے موقف اختیار کیا تھا کہ جیل میں قید کے دوران نامساعد حالات کے باعث مجرم کی ذہنی کیفیت متاثر ہوئی تھی اور اس کا اعترافِ جرم رضاکارانہ نہیں تھا۔

تین رکنی عدالتی بینچ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جیل کے ریکارڈ، ذہنی صحت کے جائزے اور سابقہ وکلاء کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم کا بیان تضادات کا شکار ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اعترافِ جرم کے وقت مجرم مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھا اور اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے دوران مجرم نے اپنی اپیل واپس لینے کی کوشش بھی کی، جسے عدالت نے عوامی مفاد کے پیش نظر مسترد کر دیا۔ تاہم، سزا کے خلاف اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرین اور معاشرے کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ اس کیس کو مزید طول نہ دیا جائے، جس کے بعد اب اپیل کا عمل باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -