امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ جرمن چانسلر کو اپنے ملک کے داخلی مسائل بالخصوص امیگریشن اور توانائی کے بحران کو حل کرنے پر وقت صرف کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں میں مداخلت کریں۔
صدر ٹرمپ نے فریڈرک مرز کی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں روس یوکرین تنازع میں مکمل طور پر غیر مؤثر قرار دیا۔ یہ بیان دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز اس وقت ہوا جب جرمن چانسلر نے دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کی میز پر امریکہ کو تذلیل کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مرز حقائق سے ناواقف ہیں اور وہ ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کو درست سمجھتے ہیں۔
اس کشیدگی کے دوران امریکہ کی جانب سے جرمنی میں تعینات اپنے ہزاروں فوجی دستوں کو واپس بلانے یا ان کی تعداد کم کرنے کی دھمکی بھی سامنے آئی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈفول نے مراکش کے دورے کے دوران کہا کہ برلن کسی بھی ممکنہ امریکی اقدام کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر نیٹو کے تمام فورمز پر اعتماد کی فضا میں بات چیت جاری ہے۔
جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا خیال کوئی نیا نہیں ہے اور ماضی میں بھی اس طرح کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈے، بشمول رامسٹین ایئر بیس، کسی بھی بحث سے بالاتر ہیں کیونکہ یہ امریکہ اور جرمنی دونوں کے لیے ناقابلِ تلافی اہمیت کے حامل ہیں۔
فریڈرک مرز نے اپنے حالیہ بیانات میں نیٹو کے اتحاد اور ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کو جرمن خارجہ پالیسی کا محور قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں باہمی احترام اور ذمہ داریوں کا منصفانہ اشتراک موجود ہے، اور جرمنی اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
