-Advertisement-

دی ڈیول وئیرز پراڈا 2: اسٹائلش مگر پہلے حصے جیسی کاٹ دار نہیں

تازہ ترین

امریکی عہدیدار کا دعویٰ: ایران کے ساتھ جنگ بندی سے جنگی اختیارات کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے...
-Advertisement-

دی ڈیول وئیرز پراڈا ٹو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے جس میں اداکاروں کی شاندار کارکردگی اور عصری موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے تاہم ایک نئے جائزے کے مطابق یہ فلم اپنے پہلے حصے کی طرح اثر انگیز ثابت نہیں ہو سکی۔

ڈیوڈ فرینکل کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں میرل اسٹریپ، این ہیتھ وے، ایملی بلنٹ، اسٹینلے ٹوچی، جسٹن تھیرو، سیمون ایشلے، کینتھ برانا اور لوسی لیو نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ فلم کی کہانی فیشن اور میڈیا کی دنیا میں طاقت کے بدلتے ہوئے مرکز کے گرد گھومتی ہے۔

فلمی جائزے کے مطابق یہ سیکوئل جدید دور کے نیوز روم کی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں اب ادارتی اختیار اور روایتی اقدار کے بجائے ڈیجیٹل میٹرکس اور کارپوریٹ اثر و رسوخ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ میرل اسٹریپ کا کردار مرانڈا پریسلی اب ایک ناقابل تسخیر طاقت کے بجائے ایسی شخصیت کے طور پر دکھایا گیا ہے جو ڈیٹا، عوامی دلچسپی اور کارپوریٹ کنٹرول کے تحت چلنے والی میڈیا انڈسٹری کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر رہی ہے۔

این ہیتھ وے کے کردار اینڈی سیکس کو ایک صحافی کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے ذریعے فلم میں نیوز روم کے اندر موجود دباؤ، اچانک ملازمتوں سے برطرفی اور کام کی جگہ پر بدلتی ہوئی حرکیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

ایملی بلنٹ کی اداکاری کو فلم کا سب سے مضبوط پہلو قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ان مناظر میں جہاں مسابقتی ماحول میں عزائم، رقابت اور خود اعتمادی کی کمی جیسے جذباتی پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔ اسٹینلے ٹوچی نے بھی نیوز روم کے پس منظر میں ایک مستحکم کردار ادا کیا ہے۔

تاہم جائزے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ یہ سیکوئل اصل فلم کے تیز مکالموں اور گہرے اثر کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے اور کہانی میں جدت کے بجائے پرانی یادوں اور ماضی کے حوالوں پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔

اگرچہ میڈیا اور فیشن انڈسٹری میں آنے والی حقیقی تبدیلیوں کی عکاسی کرنے پر فلم کی تعریف کی گئی ہے، لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم اس ندرت اور معیار کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکی جس نے اس کے پہلے حصے کو ایک کلچرل شاہکار بنایا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -