-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود برطانیہ میں گھروں کی قیمتوں میں اضافہ

تازہ ترین

پاکستان اور چین کے مابین تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دستخط

پاکستان اور چین نے مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی متعدد یادداشتوں...
-Advertisement-

برطانیہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ نے تمام تر معاشی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپریل کے دوران مسلسل چوتھے ماہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رکھا ہے۔ نیشن وائیڈ بلڈنگ سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود گھروں کی قیمتوں میں صفر اعشاریہ چار فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مارچ میں یہ شرح صفر اعشاریہ نو فیصد تھی۔

معاشی ماہرین کی جانب سے رائٹرز کے پول میں قیمتوں میں صفر اعشاریہ تین فیصد کمی کی پیشگوئی کی گئی تھی تاہم مارکیٹ نے توقعات کے برعکس کارکردگی دکھائی ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں قیمتوں میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ دو اعشاریہ دو فیصد کی متوقع شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

نیشن وائیڈ کے چیف اکانومسٹ رابرٹ گارڈنر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور صارفین کے اعتماد میں کمی کے باوجود ہاؤسنگ مارکیٹ کا بحال ہونا حیران کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال کے آغاز میں سست روی کے بعد مارکیٹ دوبارہ رفتار پکڑ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے میں کشیدگی کے بعد سے رہن یعنی مارگیج کی شرح سود میں اضافہ ہوا ہے جو کہ 2024 کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔ جی ایف کے سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد بھی 2023 کے بعد نچلی ترین سطح پر آ چکا ہے۔

رابرٹ گارڈنر نے وضاحت کی کہ فی الحال گھروں کی مانگ میں اضافے کی بڑی وجہ گھریلو مالیات کی مضبوطی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں قرضوں کی سطح آمدنی کے تناسب سے کم ترین سطح پر ہے جبکہ حالیہ برسوں میں گھریلو آمدنی میں اضافہ گھروں کی قیمتوں میں اضافے کی شرح سے زیادہ رہا ہے۔

دوسری جانب ایک اور مارگیج لینڈر ہیلی فیکس نے مارچ کے دوران گھروں کی قیمتوں میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی کی رپورٹ دی تھی، جبکہ پراپرٹی سرویئرز نے بھی مارچ میں خریداروں کی مانگ میں کمی اور جنوری 2024 کے بعد سے قیمتوں میں وسیع تر گراوٹ کی نشاندہی کی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -