واشنگٹن (رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی میں امریکی بحریہ کا کردار کسی قزاقوں جیسا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بیان چند روز قبل ایک بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے واقعے کے تناظر میں دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے جہاز کو اپنے قبضے میں لیا، اس کا سامان اور تیل بھی ضبط کر لیا، یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم قزاقوں کی طرح عمل کر رہے ہیں، ہم ایک طرح سے قزاق ہی ہیں لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے جہازوں کے علاوہ باقی تمام جہازوں کی نقل و حرکت روک دی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں کی علیحدہ سے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے جہاں سے دنیا بھر کی تقریباً بیس فیصد سپلائی گزرتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکا میں اس جنگ کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو مکمل تباہ کرنے کی دھمکی پر بھی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
