-Advertisement-

ایران کی جوہری مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش ٹرمپ نے مسترد کر دی

تازہ ترین

شہر میں پانی کا شدید بحران، متعدد علاقے چھ روز سے سپلائی سے محروم

تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کو شدید گرمی کی لہر کے دوران پانی کے سنگین بحران...
-Advertisement-

دبئی (رائٹرز) – امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری مہم معطل کیے ہوئے چار ہفتے گزرنے کے باوجود جنگ کے خاتمے کے لیے تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔ عالمی توانائی کی سپلائی میں خلل کا باعث بننے والی اس صورتحال میں ایران نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال مسترد کر دیا ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ اس نئے فارمولے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے اور ایران پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد کے مراحل کے لیے اٹھا رکھنے کا ذکر ہے۔

ایران گزشتہ دو ماہ سے خلیج میں اپنی نقل و حمل کے علاوہ دیگر تمام جہاز رانی کو روکے ہوئے ہے، جس کے جواب میں گزشتہ ماہ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں سے آنے والے جہازوں پر ناکہ بندی عائد کر دی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کی حالیہ تجویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایسی چیزوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن پر وہ اتفاق نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے ان نکات کی تفصیل نہیں بتائی جن پر انہیں تحفظات ہیں۔

امریکا کا موقف ہے کہ وہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک کوئی ایسا معاہدہ طے نہ پا جائے جو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک سکے۔ دوسری جانب ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق، نئی تجویز کے تحت جنگ کے خاتمے کے بدلے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت درکار ہے۔ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں جوہری پروگرام پر بات چیت کا راستہ ہموار کرنے کی بات کی گئی ہے۔

تہران کا مطالبہ ہے کہ پابندیاں اٹھانے کے عوض جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں، جس میں ایران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے اپنے حق کو تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ اس فریم ورک کا مقصد جوہری جیسے پیچیدہ مسائل کو آخری مرحلے پر لے جا کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

یہ پیشکش ثالثوں کے ذریعے باقاعدہ طور پر امریکا تک پہنچائی گئی ہے جس میں جوہری مسائل حل ہونے سے قبل ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا لائحہ عمل واضح کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -