-Advertisement-

یوکرینی ڈرون حملے: روس کی اہم آئل تنصیبات اور ‘شیڈو فلیٹ’ کے دو ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا

تازہ ترین

خطے میں کشیدگی: ایران کا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں...
-Advertisement-

یوکرین نے اتوار کے روز روس کے تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں بحیرہ بالٹک میں روس کی سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی بندرگاہ پرائمورسک بھی شامل ہے جہاں ایک ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ روسی علاقائی گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق اس واقعے میں تیل کا کوئی رساؤ نہیں ہوا تاہم انہوں نے جانی نقصان یا تباہی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ یوکرینی افواج نے پرائمورسک بندرگاہ پر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں روس کا کالیبر میزائل بردار جہاز، کاراکورٹ میزائل شپ، ایک گشتی کشتی اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والا شیڈو آئل فلیٹ کا ایک ٹینکر بھی تباہ کیا گیا ہے۔ میجر جنرل ییوہین کھمارا نے بندرگاہ پر اہداف کی کامیابی سے تباہی کی اطلاع دی ہے۔

صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرینی فورسز نے بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک کے قریب بھی دو شیڈو فلیٹ ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے جنہیں تیل کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس آپریشن کی قیادت یوکرین کے چیف آف جنرل اسٹاف آندری گناتوف نے کی۔ یوکرین کا موقف ہے کہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی روس کے حملے کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے جس کے پیش نظر روس کی برآمدی صلاحیت کو کم کرنا ان کی ترجیح ہے۔

دوسری جانب روس نے ان دعووں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ رات کے دوران روس اور مقبوضہ کریمیا کے اوپر مجموعی طور پر 334 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔ ماسکو کے قریب ولوکومسک کے مقام پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں 77 سالہ شخص ہلاک ہوا جبکہ ماسکو کے مضافات میں بھی ڈرون مار گرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ادھر یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جہاں رہائشی عمارتوں اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ڈنیپروپیٹروسک کے علاقے میں بھی روسی حملوں میں چھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک بس جس میں 40 بچے سوار تھے، حملے کی زد میں آئی تاہم بچے محفوظ رہے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر یوکرین پر 269 ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جن میں سے 249 ڈرونز کو مار گرایا گیا، جبکہ 15 مقامات پر میزائل اور ڈرونز کے اثرات ریکارڈ کیے گئے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -