-Advertisement-

ہالینڈ کے کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا حملہ، تین مسافر ہلاک، متعدد بیمار

تازہ ترین

بھارت: پانچ ریاستوں میں انتخابات کے نتائج، مودی سرکار کے لیے اہم امتحان

بھارت کی پانچ ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی سخت سکیورٹی حصار میں جاری...
-Advertisement-

نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے باعث تین افراد ہلاک اور تین بیمار ہو گئے ہیں۔ یہ وائرس چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس سے سانس کی جان لیوا بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ کی کمپنی اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کا پولر مہم جوئی کرنے والا بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس افریقہ کے مغرب میں بحر اوقیانوس کے جزیرے کیپ وردے کے قریب ایک سنگین طبی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کروز جہاز تقریباً تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب مسافر سوار تھے۔ جہاز نے کیپ وردے پہنچنے سے قبل انٹارکٹیکا اور دیگر مقامات پر بھی قیام کیا تھا۔

ڈچ وزارت خارجہ کے ترجمان نے دو ڈچ مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ عالمی ادارہ صحت نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بتایا کہ بیمار مسافروں میں سے ایک جنوبی افریقہ کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہے، جبکہ اسکائی نیوز کے مطابق جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت نے اس مسافر کے برطانوی شہری ہونے کی تصدیق کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اس وبا کی تحقیقات کر رہا ہے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے چھ متاثرہ افراد میں سے ایک میں ہنٹا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کیپ وردے حکام نے طبی امداد کے منتظر مسافروں کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ڈچ حکام دو علامتی مریضوں اور ایک متوفی کی میت کو وطن واپس لانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

ہنٹا وائرس چوہوں کے فضلے اور پیشاب کے ذریعے ہوا میں شامل ہو کر پھیلتا ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق انتہائی نایاب صورتوں میں یہ انسانوں کے درمیان بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

امریکی مراکز برائے انسداد امراض کے مطابق اس بیماری کا آغاز فلو جیسی علامات سے ہوتا ہے اور یہ دل و پھیپھڑوں کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے، جس میں شرح اموات تقریباً چالیس فیصد تک ہو سکتی ہے۔

اس وائرس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں ہے، اس لیے طبی امداد کا انحصار مریض کی حالت کو سنبھالنے اور شدید صورتحال میں وینٹی لیٹر کے استعمال پر ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ رکن ممالک اور جہاز کے آپریٹرز کے درمیان رابطے کر رہا ہے تاکہ بیمار مسافروں کو طبی بنیادوں پر منتقل کیا جا سکے اور جہاز پر موجود باقی مسافروں کی صحت کے خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ برطانوی دفتر خارجہ اور جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -