بھارت کی پانچ ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی سخت سکیورٹی حصار میں جاری ہے۔ اس عمل میں سب سے زیادہ توجہ مغربی بنگال پر مرکوز ہے جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپوزیشن کے گڑھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپریل اور مئی کے دوران منعقد ہونے والے ان انتخابات میں بی جے پی وفاقی حکومت میں اپنی طاقت کے بعد اب ریاستی سطح پر بھی غلبہ حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ مغربی بنگال میں ہندو قوم پرست جماعت نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ دس کروڑ کی آبادی والی اس ریاست میں ممتا بنرجی 2011 سے اقتدار میں ہیں۔
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایگزٹ پولز میں بی جے پی کو معمولی برتری دی گئی ہے تاہم بھارت میں ان جائزوں کی تاریخ ملی جلی رہی ہے۔ کولکتہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار بسوناتھ چکرورتی کا کہنا ہے کہ پورے ملک کی نظریں ان نتائج پر جمی ہیں کیونکہ یہ مقابلہ طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران ووٹر لسٹوں سے لاکھوں ناموں کے اخراج پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اقلیتی اور پسماندہ برادریوں کے خلاف تعصب پر مبنی تھا۔
نتائج سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اقتدار میں نہیں آئے گی اور لوگوں کو حتمی نتائج تک صبر سے کام لینا چاہیے۔ دوسری جانب مغربی بنگال میں بی جے پی کے سربراہ سمک بھٹاچاریہ نے اپنی جیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور موجودہ حکمران جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنوبی ریاست تامل ناڈو میں، جو کہ آٹھ کروڑ سے زائد آبادی کا صنعتی مرکز ہے، وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں دراوڑا منیتر کڑگم کے دوبارہ کامیاب ہونے کے امکانات ہیں۔ مشرقی ریاست آسام میں، جہاں کی آبادی تین کروڑ دس لاکھ سے زائد ہے، بی جے پی کے اپنی حکومت برقرار رکھنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقے پڈوچیری میں بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے جہاں بی جے پی حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔
کیرالہ میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے لیے ہونے والے سخت مقابلے میں ایگزٹ پولز کے مطابق کانگریس کی قیادت والا اتحاد کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر سکتا ہے۔ ان ریاستی انتخابات میں کامیابی نریندر مودی کے لیے معاشی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز، بشمول بے روزگاری اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملات میں پوزیشن مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔
