-Advertisement-

متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ کے استعمال پر نئی پابندیاں اور سخت ضوابط نافذ

تازہ ترین

علاقائی جنگ کے سائے: عراق کے مقدس شہر زائرین سے خالی

عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع حضرت علی علیہ السلام کا مزار زائرین کی کمی کے باعث ویرانی...
-Advertisement-

متحدہ عرب امارات کی جانب سے واٹس ایپ کے استعمال کے حوالے سے اہم ضوابط کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یکم مئی سے بینکنگ خدمات میں واٹس ایپ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے تحت مالیاتی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسٹمر سروس، حساس مالیاتی معلومات کے تبادلے، لین دین کی تصدیق اور ون ٹائم پاس ورڈز کی ترسیل کے لیے واٹس ایپ کا استعمال نہ کریں۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو فراڈ سے محفوظ رکھنا اور ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اب بینکوں اور ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو موبائل ایپس اور کال سینٹرز جیسے محفوظ ذرائع ابلاغ استعمال کرنے ہوں گے۔

قومی سلامتی اور شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ کے پیش نظر حکام نے واضح کیا ہے کہ نجی چیٹس بھی ملک کے سخت سائبر کرائم قوانین کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ غیر مصدقہ مواد کو آگے بڑھانا، بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا یا تضحیک آمیز پوسٹس میں افراد کو ٹیگ کرنے پر پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ یا قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی پیغام کو فارورڈ کرنا اس کی دوبارہ اشاعت تصور کیا جاتا ہے جس کے لیے صارف خود ذمہ دار ہوگا۔

واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز کے لیے بھی سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ ایڈمنز اپنے گروپس میں شیئر کیے جانے والے غیر قانونی یا قابل اعتراض مواد کے ذمہ دار ہوں گے۔ قانون کے مطابق ایڈمنز پر لازم ہے کہ وہ ایسے پیغامات کو فوری طور پر ڈیلیٹ کریں اور خلاف ورزی کرنے والے اراکین کو گروپ سے نکال دیں۔ غفلت برتنے کی صورت میں ایڈمنز کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید برآں، واٹس ایپ پیغامات کو اب عدالتی شہادت کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے گا۔ دبئی کی کورٹ آف کیسی ایشن نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی تنازعات، خاص طور پر مالی معاملات اور ذاتی جھگڑوں کے دوران واٹس ایپ پیغامات کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ قانون نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پیغامات کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں کیونکہ یہ کسی بھی وقت قانونی کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -