-Advertisement-

بھارتی ریاستی انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، مودی سرکار کے لیے اہم امتحان

تازہ ترین

علاقائی جنگ کے سائے: عراق کے مقدس شہر زائرین سے خالی

عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع حضرت علی علیہ السلام کا مزار زائرین کی کمی کے باعث ویرانی...
-Advertisement-

بھارت کی پانچ ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی سخت سیکیورٹی کے حصار میں جاری ہے۔ سب سے زیادہ توجہ مغربی بنگال پر مرکوز ہے جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اہم کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

اپریل اور مئی کے دوران ہونے والے ان انتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی اپوزیشن کے زیر کنٹرول ریاستوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی خواہاں ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس کی دہائی سے زائد عرصے پر محیط حکومت کو ختم کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ دس کروڑ کی آبادی والی اس ریاست میں انتخابی مہم کے دوران ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام خارج کرنے پر شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اقلیتی اور پسماندہ برادریوں کے خلاف تعصب پر مبنی تھا۔

کولکتہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار بسوناتھ چکرورتی کا کہنا ہے کہ پورے ملک کی نظریں مغربی بنگال کے نتائج پر جمی ہیں کیونکہ یہ مقابلہ طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایگزٹ پولز میں بی جے پی کو معمولی برتری حاصل دکھائی گئی تھی، تاہم بھارت میں ایگزٹ پولز کی تاریخ غیر یقینی رہی ہے۔

نتائج سے قبل ممتا بنرجی نے اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں نہیں آئے گی اور عوام کو حتمی نتائج تک صبر کرنا چاہیے۔ دوسری جانب مغربی بنگال کے بی جے پی چیف سمیک بھٹاچاریہ نے اپنی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ترنمول کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماضی میں اس ریاست میں انتخابات کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

دیگر ریاستوں میں بھی انتخابی عمل جاری ہے۔ تمل ناڈو میں حکمراں دراوڑا مونیترا کزگم کی دوبارہ کامیابی کی توقع ہے، جبکہ آسام میں بی جے پی کی اپنی حکومت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ کیرالہ میں کانگریس اتحاد اور کمیونسٹ پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، جہاں ایگزٹ پولز کے مطابق کانگریس اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ پڈوچیری میں بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے جہاں بی جے پی حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔

ان ریاستی انتخابات میں کامیابی نریندر مودی کو معاشی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز، بشمول بے روزگاری کی بلند شرح اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے جیسے معاملات پر سیاسی طور پر زیادہ مضبوط پوزیشن فراہم کرے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -