-Advertisement-

ایران: حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث تین افراد کو پھانسی دے دی گئی

تازہ ترین

ایران کا آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہاز کو واپس موڑنے کا دعویٰ، امریکا کی تردید

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی...
-Advertisement-

ایرانی حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے جرم میں تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق مہدی رسولی اور محمد رضا میری کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ قرار دیتے ہوئے پھانسی دی گئی۔ عدالت نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے مشہد میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران آتش گیر مواد اور دھار دار ہتھیاروں کا استعمال کیا، لوگوں کو قتل پر اکسایا اور ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں براہ راست حصہ لیا۔

اسی سلسلے میں ابراہیم دولت آبادی کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مشہد میں ہونے والے ان ہنگاموں کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے جن کے نتیجے میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ان تمام افراد کی سزائے موت کی توثیق سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی تھی۔

ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنوری میں عروج پر پہنچنے والی احتجاجی لہر کا آغاز پرامن انداز میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں اسے بیرونی طاقتوں نے ہنگاموں میں تبدیل کر دیا۔ حکومت نے مظاہروں کے دوران تین ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس کا الزام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ترتیب دیے گئے دہشت گردانہ اقدامات پر عائد کیا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان سزاؤں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران کا کہنا ہے کہ جنوری 2026 کے مظاہروں میں گرفتار درجنوں افراد کو غیر منصفانہ اور تیز رفتار ٹرائل کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے، جن میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا اور اعترافی بیانات تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق چین کے بعد ایران دنیا بھر میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔ ناروے اور پیرس میں قائم تنظیموں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ایران میں کم از کم ایک ہزار چھ سو انتالیس افراد کو سزائے موت دی گئی، جن میں اڑتالیس خواتین بھی شامل تھیں۔ اسی طرح ایران ہیومن رائٹس مانیٹر کا دعویٰ ہے کہ رواں سال کے ابتدائی تین مہینوں میں چھ سو چھپن افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز بھی ایک شخص کو دو ہزار بائیس اور تئیس کے دوران مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ بیتا ہمتی کو بھی احتجاج کے دوران سزائے موت پانے والی پہلی خاتون سمجھا گیا تھا۔ رواں برس مارچ میں بھی پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں تین افراد کو پھانسی دی گئی تھی جن میں قومی کشتی ٹیم کے رکن صالح محمدی بھی شامل تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -