صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بحفاظت گزارنے کے لیے شروع کیے گئے منصوبہ فریڈم کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ معطلی مختصر مدت کے لیے ہے کیونکہ امریکہ اور ایران ایک حتمی اور مکمل معاہدے کے حصول کی جانب نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔
منصوبہ فریڈم کا اعلان اتوار کی شب کیا گیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کو یقینی بنانا تھا۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے اس راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، آپریشن کے آغاز کے بعد سے امریکی فوج نے متعدد تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے کے ایک حصے سے ایرانی بارودی سرنگیں بھی صاف کر دی ہیں تاکہ جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس منصوبے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے منصوبہ ڈیڈ لاک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ فوجی اقدامات سے سیاسی بحران حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے جاری مذاکرات کے دوران امریکہ کو محتاط رہنا چاہیے تاکہ وہ کسی نئی مشکل میں نہ پھنسے۔
گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن میں امریکی تباہ کن جہازوں پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں ایران کی چھ چھوٹی کشتیاں تباہ کی گئیں، تاہم ایران نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ منصوبہ فریڈم کا مقصد دفاعی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے میں مداخلت جاری رکھی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکام معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری اقدامات سے آگاہ ہیں۔
