-Advertisement-

ایران امریکی دھمکیوں اور بدمعاشی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا، صدر پزشکیان

تازہ ترین

ہینٹا وائرس کا شبہ: کروز شپ سے تین مریضوں کا انخلا، کینری آئی لینڈز کی جانب سے لنگر انداز ہونے کی اجازت سے انکار

عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ کروز شپ ایم وی ہونڈیئس سے ہنٹا وائرس کے شبہے میں...
-Advertisement-

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکی دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دھمکی آمیز رویہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

صدر پزشکیان نے ان خیالات کا اظہار عراق کے نامزد وزیراعظم علی فالح الزیدی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر منطقی انداز میں بات چیت کی جائے تو اسلامی جمہوریہ ایران مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، لیکن دھمکیوں کی زبان سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کسی بھی قسم کی جبری پالیسیوں کے سامنے جھکنے سے انکاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری کو ایران پر فضائی حملے کیے تھے جس کے جواب میں تہران نے خطے میں جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ پاکستان کی ثالثی میں آٹھ اپریل کو عارضی جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا تھا، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات واشنگٹن کے سخت گیر مطالبات کے باعث ناکام ہو گئے تھے۔

صدر پزشکیان نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی دھمکیاں اور خلیج فارس کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جسے تہران نے کھلی سمندری قزاقی قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر نے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسلم امہ کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پرامن تعاون کا خواہاں ہے اور اگر انصاف اور برابری پر مبنی راستہ اختیار کیا جائے تو اختلافات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -