-Advertisement-

سعودی عرب کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال سے انکار، امریکی بحری آپریشن معطل

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ گلگت بلتستان، ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے ہیں۔ دورے کے دوران وزیراعظم نے گورنر گلگت بلتستان...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بحفاظت گزارنے کے لیے شروع کیے گئے بحری آپریشن کو معطل کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے امریکی طیاروں کو شہزادہ سلطان ایئر بیس استعمال کرنے یا سعودی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد کیا گیا۔

پروجیکٹ فریڈم کے نام سے شروع کیے جانے والے اس آپریشن کا اعلان اتوار کے روز کیا گیا تھا جس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت کو حیران کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس مشن کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا تھا تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ایک سعودی ذریعے نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ خطے میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ریاض، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت میں کی جانے والی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ علاقائی اتحادیوں کو اس اقدام سے قبل از وقت آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے اس منصوبے کے عوامی اعلان کے بعد صرف عمان کے ساتھ رابطہ کاری کی تھی۔

دریں اثنا ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری حدود میں تجارتی جہازوں کو ہر قسم کی تکنیکی، طبی اور میری ٹائم معاونت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ پیشکش باضابطہ میری ٹائم چینلز کے ذریعے جہازوں کے کپتانوں تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جہازوں کے عملے کی فلاح و بہبود اور بحری حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس امدادی پیکیج میں ایندھن کی فراہمی، طبی سہولیات اور جہازوں کی مرمت کا سامان شامل ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -